جمعہ 3 اپریل 2026 - 13:23
P

حوزہ/ ہندوستان میں سنی اور شیعہ مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ایک اہم اور قابلِ توجہ مثال سامنے آئی ہے، جہاں ممتاز سنی عالم دین مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے ایران کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے نہ صرف اتحادِ امت کا عملی مظاہرہ کیا بلکہ رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت و تسلیت بھی پیش کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی/ ہندوستان میں سنی اور شیعہ مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ایک اہم اور قابلِ توجہ مثال سامنے آئی ہے، جہاں ممتاز سنی عالم دین مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے ایران کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے نہ صرف اتحادِ امت کا عملی مظاہرہ کیا بلکہ رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت و تسلیت بھی پیش کی۔

تفصیلات کے مطابق، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی لکھنؤ سے خصوصی طور پر نئی دہلی پہنچے، جہاں انہوں نے ایران کلچر ہاؤس میں ہندوستان میں مقیم رہبرِ انقلاب اسلامی کے نمائندے اور ولیِ فقیہ کے نمائندے، حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی سے اہم ملاقات کی۔

یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، عالم اسلام کو درپیش چیلنجز، اور موجودہ عالمی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر مولانا سجاد نعمانی نے رہبرِ انقلاب کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت پیش کی اور ایران کی مظلوم عوام و قیادت کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اعلان کیا۔ مزید برآں، انہوں نے ایران کے لیے مالی تعاون بھی پیش کیا، جو موجودہ حالات میں عملی حمایت کی ایک واضح مثال ہے۔

مولانا سجاد نعمانی برصغیر کے ممتاز سنی علماء میں شمار ہوتے ہیں اور علمی، فکری اور سماجی میدان میں ان کا گہرا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔ وہ اتحادِ امت کے داعی اور بین المسالک ہم آہنگی کے سرگرم علمبردار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی اس پیش رفت کو نہ صرف ہندوستان بلکہ عالم اسلام میں ایک مثبت اور امید افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ملاقات کے دوران دونوں شخصیات کے درمیان عربی زبان میں گفتگو ہوئی، جبکہ ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی نے ایرانی قیادت اور موجودہ حالات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔

اس موقع پر مولانا سجاد نعمانی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ آج کی جنگ کسی ایک ملک یا مسلک کی نہیں بلکہ حق اور باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت اور ظلم کے خلاف پوری امت مسلمہ کو متحد ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں استکباری طاقتوں کا زوال شروع ہو چکا ہے اور مظلوم اقوام ایک نئے عالمی نظام کی جانب بڑھ رہی ہیں، جہاں عدل و انصاف کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے عرب و اسلامی ممالک کو بھی بیداری کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ حالات کا ادراک کریں اور حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔

آخر میں انہوں نے ایرانی عوام اور قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قیادت کی استقامت دراصل عوام کی حمایت کا نتیجہ ہے، اور یہی اتحاد مستقبل میں امت مسلمہ کی کامیابی کی ضمانت بنے گا۔

یہ خبر نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں سنی-شیعہ اتحاد، مشترکہ موقف اور مظلومین کی حمایت کے ایک مضبوط پیغام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha